Showing posts with label Poet. Show all posts
Showing posts with label Poet. Show all posts

Wednesday, January 20, 2010

اندرکی آواز





محبت سچ اوربے خوفی ‘ایک احساس کے تین نام رکھ چھوڑے ہیں اوراسی نہ اترنے والے بوجھ سے زندگی آراستہ ہے ۔سوکھی شاخ کے ٹوٹنے کی تڑاخ اورجلتے توے پرپانی کی بوندہم سے کچھ مختلف نہیں ‘ کم آمیزی اور کم گوئی کویارلوگوں نے ہماراغرورجانا‘ جاناہی نہیں ہم پرچھاپ لگائی ۔
ہم نے سادہ ترین لباس پہنالیکن انااورخوداعتمادی کوقیمتی کپڑے پہنائے ‘ خوش گلوئی کواضافی خوبی سمجھا‘ لفظ پرآوازکوکبھی ترجیح نہیں دی ‘ خیرخواہوں کابس چلے توہماری عزت شہرت اورسوچیں کوڑے پرپھنکوادیں ۔ ہم ہمیشہ اپنے اسلوب پرقناعت کی جگالی سے دوررہے ‘ شاعری ہماری کچھ لگتی ہے یانہیں اس کاسراغ قاری کولگاناہے ۔شعرکی آڑمیں جوکچھ کہاوہ خوشبوہے یادھواں ‘ اس کافیصلہ بھی آپ کے ہاتھ ہے ‘ ہماراکوئی دعویٰ نہ خواہش
انیس مطبوعہ شعری مجموعے اور ایک خودنوشت سوانح حیات کی حشرسامانیاں اٹھائے پھرتے ہیں ‘ یہ گٹھڑی کہاں کھل کربکھرجائے کچھ خبرنہیں
مظفروارثی

Sunday, January 17, 2010

نگاہ ِاولیں

مظفروارثی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔مبداء فیض نے بیک وقت انہیں جوشخصی خواص اورفنی خوبیاں عطاکی ہیں ،کم ہی لوگوں کونصیب ہیں۔مثال کے طورپردیکھاگیاہے کہ شاعرعموماخوش الحانی سے محروم ہوتے ہیں لیکن مظفروارثی کے ہاں اسلوب کی انفرادیت بھی مسلمہ ہے اوران کی خوش الحانی کے بھی مداح دنیابھرمیں پھیلے ہوئے ہیں۔ان کے گلے میں لحن ِداؤدی کی جو شیرینی ہے، اس نے ایک زمانے کی سماعتوں میں رس گھول رکھاہے۔یہ اس کی دین ہے جسے پروردگاردے۔
اقلیم شعروسخن میں مظفروارثی کوہرصنف ِسخن پرملکہ حاصل ہے لیکن ان کی جامعیت کاصحیح اندازہ آج تک کوئی کرہی نہیں سکا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں عالمگیرشہرت نعت گوئی سے حاصل ہوئی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ انہوں نے غزل ،نظم،ہائیکواورنثرکے میدان میں جوکارہائے نمایاں سرانجام دئیے، ادبی شخصیات ،ہمعصرشعراء اورنقادوں نے انہیں قابل ِغورہی نہیں سمجھا۔یوں کہنامناسب ہوگاکہ ان کے کام سے ہماری ادبی شخصیات نے چشم پوشی کی جوبہت بڑی ناانصافی ہے۔میں سمجھتاہوں کہ اس کی وجہ ان کی انفرادیت ہے جوہمعصرشعراء کوہضم نہیں ہوئی اورجس سے کوتاہ قامت نقادوں کوپریشانی لاحق ہوگئی۔دراصل کسی بھی عہدسازشخصیت اورفنی اعتبارسے قدآورانسان سے تعلق رکھنااورسمجھناکوئی مذاق نہیں ۔مقابل خودکو بالشتیامحسوس کرنے لگتاہے۔جب وہ اسے سراٹھاکردیکھتاہے تواس کے اندربرہمی اورکمتری لاوے کی شکل میں ابلنے لگتی ہے ۔اسے ایسالگتاہے جیسے وہ کوئی عاقل وبالغ انسان نہیں بلکہ چھوٹاسابچہ ہے اوراپنے باپ سے بات کررہاہے۔ظاہرہے یہ بات کسی کوبھی اچھی نہیں لگ سکتی۔
میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ میں ان سے ملا۔جب میں پہلی باران سے ملاتھاتودراصل میں نعت گو مظفر وارثی سے ملنے گیا تھا۔ان سے ملاتوپتہ چلاکہ نعت گوئی توان کی فنی شخصیت کاصرف ایک حوالہ ہے،مکمل شخصیت نہیں۔میری ملاقات ایک عام سے لیکن سچے اورکھرے انسان،ایک بنیادپرست صوفی اورایک رمزشناس مورخ سے ہوئی۔پھران سے لامتناہی ملاقاتوں کاایک سلسلہ چل نکلا۔جیسے لاہورمیں رہ کرآپ داتاصاحب کے اثرسے بچ نہیں سکتے اسی طرح مجھے ہرراستہ مظفر وارثی صاحب کے گھرکی راہ لیتادکھائی دیتاہے ۔شروع شروع میں میں یہ سمجھتا تھا کہ ان کی محفل میں جنریشن گیپ مسئلہ بنے گالیکن آپ کے ہاں نہ مرعوبیت تھی نہ ہی میں۔محفلیں ایسی جمتیں کہ گھنٹوں باتیں ہوتیں۔آپ کی باتیں دل کے قفل کھول کرذات میں کہیں جذب ہو جاتیں۔آپ اکثراپنی ذاتی زندگی کے اوراق پلٹ کرگویا برصغیرکی تاریخ کھول کرسامنے رکھ دیتے اورحالات ِحاضرہ پراپنے تاثرات اورمشاہدات شئیر کیاکرتے ہیں۔کرم نوازی کایہ عالم ہے کہ مجھے بالکل اولادکی طرح محبت دیتے ہیں۔( یہ اوربات ہے کہ آپ کے سامنے مجھ پر ہمیشہ عقیدت میں بھیگے ہوئے کسی مریدکی سی کیفیت طاری ہوجایاکرتی ہے۔یہ میرے دل ودماغ پرآپ کی روحانیت کا ایسا تاثرہے جوکبھی بھی زائل نہیں ہوسکا۔میں نے توایک آدھ باران سے یہ بھی کہاہے کہ اگروہ بیعت وارشادکاسلسلہ شروع کریں توان کاپہلامریدمیں ہی ہوں گا )
آپ کی یہ خواہش رہی ہے کہ آپ کے فنی کارہائے نمایاں پرپی ایچ ڈی کی جائے ۔میں اپنی نااہلی کااعتراف کرتاہوں کہ ایسانہیں کرپایالیکن یہ بے ہنگم اوربے ربط سے لفظوں کاڈھیرآپ کی نذرکرنے کولایاہوں کہ میرے لفظوں کوکہنے اوربولنے کاسلیقہ بھی توآپ ہی کاسکھایاہوا ہے۔سواب جوہے ،وہ پیش ِخدمت ہے۔ع
گرقبول افتدزہے عزوشرف
اس بلاگ کومیرے استادسخن اورعہد حاضرکے عظیم سخنورجناب مظفروارثی کی اردو ادب میں بے حدخدمات کوکی طرف سے پیش کیاجانے والاحقیرساخراجِ تحسین سمجھاجائے ۔اس میں اردوکے معروف ادبااورشعرا کی وہ تحریریں بھی شامل رہیں گی ‘جوانہوں نے مختلف اوقات میں جناب مظفر وارثی کی شاعری کے حوالے سے تحریرکیں۔
اس مجموعے کوملاحظہ ومطالعہ کے بعدآ پ بے ساختہ دادتودیں گے ہی، دعابھی دیجئے گاکہ خدائے بزرگ وبرترسے انہیں لکھنے کیلئے طبعی عمرملتی رہے۔یہ دعاؤں کی ایمانی قوت ہے جوزلیخاکوبڑھاپے میں جوان بنادیتی ہے۔میں بھی دعاگوہوں ،وہ خودبھی دعاگوہیں۔آپ بھی دعاکیجئے۔

سیدانوارگیلانی